CIVIL SOCIETY PAKISTAN

April 19, 2008

Filed under: MILITARY RULE — civilsocietypakistan @ 9:13 pm

BBC

APRIL 19, 2008

Saturday, 19 April, 2008, 07:41 GMT 12:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پشاور:فوج کی متنازع رہائشی سکیم

فوج
ایس سی این کا کہنا ہے کہ اس زمین پر فوج کو یہ مہنگی رہائیشی سکیم بنانے کی اجازت نہیں ہونی چاہہیے

ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’سرحد کنزرویشن نیٹ ورک‘ یعنی ’ایس سی این‘ نے پشاور کے مضافات میں خالی کرائے گئے کچا گڑھی افغان پناہ گزینوں کی اراضی پر فوج کی جانب سے رہائشی منصوبہ شروع کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایس سی این کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق تقریباً تین ہزار کنال کی اس قیمتی اراضی پر فوجی حکام کی جانب سے گزشتہ دنوں تختیوں پر لکھے نوٹس لگائے گئے ہیں جن میں اس اراضی پر اپنی ملکیت واضح کرنے کے علاوہ لوگوں کو اس سے دور رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

بیان کے مطابق بنیادی طور پر یہ ایک تربیتی علاقہ تھا لیکن فوجی حکام اب اسے ایک انتہائی مہنگے رہائشی منصوبے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس علاقے میں تعمیراتی مشینری کام کرتے دیکھی گئی ہے۔

تنظیم نے پشاور ترقیاتی اور میونسپل ادارے کے سربراہ اور ناظم پشاور سے بھی اس معاملے پر بات کرنے کی کوشش کی لیکن بیان کے مطابق انہوں نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔

ایس سی این کا کہنا ہے کہ حکام نے اس سے قبل اس اراضی پر پشاور کے شہریوں کی تفریح کے لیے اسے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس بابت یہاں چڑیا گھر تعمیر کرنے کی بھی اطلاعات تھیں لیکن اب شاید یہ ممکن نہ ہوسکے۔

ایس سی این کا کہنا ہے کہ حکام نے اس سے قبل اس اراضی پر پشاور کے شہریوں کی تفریح کے لیے اسے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس بابت یہاں چڑیا گھر تعمیر کرنے کی بھی اطلاعات تھیں لیکن اب شاید یہ ممکن نہ ہوسکے

آج کل کی قیمتوں کے مطابق اس اراضی کی قیمت اربوں روپے میں ہے۔ ایک وقت شہر سے باہر کا علاقہ تصور کی جانے والی یہ اراضی اب شہر کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ پشاور سے افغانستان جانے والی شاہراہ کی ایک جانب اگر یہ اراضی ہے تو دوسری جانب حیات آباد کا اہم رہائشی علاقہ ہے۔

تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ پشاور چھاونی کے علاقے کی دلکشی کو متاثر کرنے کے بعد اب فوجی حکام اس علاقے کو رہائشی منصوبے کے لیے استعمال کر کے پشاور کے ماحول کو بری طرح متاثر کریں گے۔ تنظیم کا یہ بھی الزام ہے کہ یہ نجی زمین ہے جس کوفوج طاقت کے زور پر اپنے استعمال میں لانا چاہتی ہے۔

سرحد کنزرویشن نیٹ ورک نے صوبائی حکومت، ماحولیات کے ماہرین اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ اس منصوبے کو روکنے کے لیے کوششیں کریں۔ اس کا موقف ہے کہ پشاور کے شہریوں کو تفریحی مقامات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ تمام شہر نے پہلے ہی ایک کنکریٹ جنگل کی شکل اختیار کر لی ہے۔

تنظیم نے اس معاملے پر عدالتی کارروائی کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

فوجی حکام سے اس مسئلے پر رابطے کی کوششیں کی گئیں تاہم یہ کامیاب نہیں ہوسکی۔

Advertisements

Leave a Comment »

No comments yet.

RSS feed for comments on this post. TrackBack URI

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.

%d bloggers like this: